جمعہ 21 اگست 2026 - 13:11
گھر میں نماز کے لیے مخصوص جگہ کے روحانی اثرات؛ آیت اللہ جوادی آملی کی اہم نصیحت

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے گھر میں نماز، دعا اور مناجات کے لیے ایک مخصوص جگہ مقرر کرنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصلّیٰ محض نماز کی جگہ نہیں بلکہ اس کے انسان پر روحانی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے تفسیر سوره حجر کے درس کی انیسویں نشست میں نماز کی جگہ «مصلّیٰ» کے معنوی مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اہلِ خانہ کو گھر میں نماز اور عبادت کے لیے ایک مخصوص جگہ مقرر کرنے کی ترغیب دی۔

انہوں نے کہا کہ اگر گھر میں سہولت ہو تو ایک کمرہ نماز کے لیے مخصوص کیا جائے، جہاں گھر کے افراد نماز، دعا اور مناجات ادا کریں، اور اگر الگ کمرہ مختص کرنا ممکن نہ ہو تو گھر کے کسی حصے میں ایک معین جگہ کو نماز و عبادت کی جگہ قرار دیا جائے اور ہمیشہ اسی جگہ نماز ادا کی جائے۔

آیت اللہ جوادی آملی نے مزید فرمایا کہ دینی روایات میں مصلّیٰ کے روحانی اثرات کی طرف اشارہ ملتا ہے؛ یہاں تک کہ اگر کسی محتضر کی جان کنی دشوار ہو تو اسے اس جگہ لے جانے کی سفارش کی گئی ہے جہاں وہ گھر میں نماز پڑھا کرتا تھا، کیونکہ وہاں اس کے لیے جان دینا آسان ہونے کی امید ہوتی ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں تاکید کرتے ہوئے کہا کہ عبادت کے لیے ایک مخصوص جگہ مقرر کرنا، اگرچہ بظاہر ایک معمولی امر محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے معنوی اثرات سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔

ماخذ: تفسیر سوره حجر، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی، درس نمبر 19۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha